<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اسلامک معلومات Archives - Ilmi Spot</title>
	<atom:link href="https://ilmispot.com/category/islamic-history/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://ilmispot.com/category/islamic-history/</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Sat, 24 Oct 2026 15:14:00 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://ilmispot.com/wp-content/uploads/2020/01/favicon.png</url>
	<title>اسلامک معلومات Archives - Ilmi Spot</title>
	<link>https://ilmispot.com/category/islamic-history/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سورت المزمل کے انوکھے کمالات</title>
		<link>https://ilmispot.com/13647/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/13647/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 17:50:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[سورت المزمل کے انوکھے کمالات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12677</guid>

					<description><![CDATA[<p>آپ کو سورت المزمل شریف کے حوالےسے بتائیں گے ۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام ہے۔ اس کلا م کے اندر یہ بابرکت سورت ہے ۔ ہر سورت اپنی تاثیر رکھتی ہے۔ ہر سورت کی اپنی ہی پڑھنے کی فضیلت ہے۔ سورت المزمل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورت میں دو رکوع [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/13647/">سورت المزمل کے انوکھے کمالات</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">آپ کو سورت المزمل شریف کے حوالےسے بتائیں گے ۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام ہے۔ اس کلا م کے اندر یہ بابرکت سورت ہے ۔ ہر سورت اپنی تاثیر رکھتی ہے۔ ہر سورت کی اپنی ہی پڑھنے کی فضیلت ہے۔ سورت المزمل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورت میں دو رکوع اور بیس آیتیں ہیں۔ مزمل کا معنی ہےچادر اوڑھنے والا۔ اس سور ت کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو “یاحی المزمل “فرما کر ندا کی ہے۔اس مناسبت سے اسے سورت المزمل کہتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">اس سورت کا مرکزی مضمون تو یہ ہے کہ اس میں نبی کریم ﷺ کی عبادت ، وظائف اور اذکار سے متعلق کلام کیاگیا ہے۔ اس سورت میں یہ بھی بتایا گیا ہے۔ کہ دنیا وآخرت کے ع ذاب سے ڈرانے والی آیات مخلوق کے لیے نصیحت ہے۔ جو چاہے ان سے نصیحت حاصل کرے۔ اس سورت کے اندر ابتداء میں اللہ پا ک نے اپنے پیارے حبیب ﷺ سے بڑے لطف و کرم والے انداز میں خطاب فرمایا۔ اور رات کے کچھ حصے میں اپنی عبادت کرنے، خوب خوب ٹھہر ٹھہر کر قرآن پاک کی تلاوت کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے بتایا کہ عنقریب آپ نے ایک انتہائی عظمت و جلالت اور قدر والا کلام نازل فرمائیں گے۔ سورت میں یہ بھی بتایاگیا کہ دن کے مقابلے میں رات کے وقت عبادت کرنے میں زیادہ دلجمعی ہوتی ہے۔ اس سورت کے بارے میں نبی کریمﷺ نے مخاطب ہوکر فرمایا: اے میرے امتی ! تم اس سورت کو اپنا ورد مقرر کرو۔اور اسے ہرروز دس مرتبہ پڑھا کرو۔ جو ہر روز اسے دس مرتبہ پڑھے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے برے آدمیوں اور آفات کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">اور اس سورت کی برکت سے اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ جوشخص کسی مہم کے لیے پڑھےگا۔ وہ مہم سخت انجام ہوگی ۔ اس سورت کا ثواب اگر اہل آسمان اور زمین لکھنے لگیں ۔تو پھر بھی نہیں لکھ سکتے۔ پس نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں پروردگار ! اس سورت کی بڑی فضیلت رکھی ہے جو اس سورت کو پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر خصوصی رحمت فرماتا ہے۔ خواجہ حسن بصری ؒ اس سورت کی تفسیر میں لکھتے ہیں جو شخص اس سورت کو پڑھنے والا ہے۔ اسے خواہ لاکھ دشمن ، حاسد، جادوگر، ظالم ، بدخواہ تکلیف پہنچانا چاہیں۔ تو اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔ مگر سب مغلوب ہوکر رہ جائیں گے۔ حضر ت علی رضی اللہ عنہ نے اسی سورت کی برکت سے ایک سو ستر میدا ن سر کیے ۔اور خیبر کے دروازے کو اسی کی برکت سے اکھاڑ دیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکا ر دو عالم ﷺ کی ظاہر ی وفات کے بعد آپ کی زیارت خواب میں اسی سورت کی برکت سے ہوا کرتی تھی ۔جو اس سورت کو پڑھے گا ۔ اپنے پاس رکھے گا۔ اس پر کوئی مصیبت نازل نہ ہوگی۔ اور لوگوں اور بارگاہ الہیٰ میں معزز ہوگا۔ اس سورت کے پڑھنے والے پر ز ہ ر اور جادو کا اثر نہیں ہوگا۔ اور تمام بلاؤ ں سے امن میں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی ” سورت المزمل” پڑھنے اور اس پر عمل پیرا کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین۔</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/13647/">سورت المزمل کے انوکھے کمالات</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/13647/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کونسا خوش قسمت انسان ہے جو کلمہ طیبہ پڑھے بغیر جنت میں داخل ہو گیا؟</title>
		<link>https://ilmispot.com/13646/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/13646/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 17:48:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[قسمت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12674</guid>

					<description><![CDATA[<p>کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کونسا خوش قسمت انسا ن ہے جو کلمہ طیبہ پڑھے بغیر جنت میں داخل ہو گیا؟۔۔۔۔حضرت سعید بن زیدؓ کے والد زید نے دوسری جنگ فجار میں جوعام فیل کے بیس سال بعد ہوئی، اپنے قبیلے بنو عدی کی نمائندگی کی۔ تب رسول اکرمﷺ کی عمر مبارک بیس سال [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/13646/">کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کونسا خوش قسمت انسان ہے جو کلمہ طیبہ پڑھے بغیر جنت میں داخل ہو گیا؟</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کونسا خوش قسمت انسا ن ہے جو کلمہ طیبہ پڑھے بغیر جنت میں داخل ہو گیا؟۔۔۔۔حضرت سعید بن زیدؓ کے والد زید نے دوسری جنگ فجار میں جوعام فیل کے بیس سال بعد ہوئی، اپنے قبیلے بنو عدی کی نمائندگی کی۔ تب رسول اکرمﷺ کی عمر مبارک بیس سال تھی اور آپﷺ بنوہاشم کے دستے میں شامل تھے۔ حضرت سعید بن زید ؓ عشرہ مبشرہ صحابہ کرام میں شامل ہیں۔آپؓ کا رسول خداﷺ کے جانثار صحابہؓ میں شامل ہونا انکے والد حضرت زید ؓ کی دعا کانتیجہ ہے</p>
<p style="text-align: right;">زید بتوں کی پوجا سےنفرت کرتے تھے، دینِ صحیح کی تلاش کرتے کرتے شامتک گئے۔ حضرت زیدؓ اللہ کے رسولﷺ کی تلاش میں سرگرداں ایسے عاشق رسول تھے جواسلام سے قبل ہی سرکاردوعالم ﷺ کی بعثت کی خاطر ظلم برداشت کرتے رہے لیکن دین ابراہیمی پر قائم رہے۔ حضرت زیدؓ ایک خوش قسمت شخصیت تھے جو کلمہ طیبہ پڑھے بغیر جنت میں داخل کر دئیے گئے۔ورقہ بن نوفل وہی ماہرانجیل تھے جنہوں نے حضور اکرم ﷺ پر پہلی وحی نازل ہونے کے بعد آپ ؐ کے نبی ہونے سے متعلق نشانیوں کا تذکرہ آپ ؐ سے کیا تھا ۔ورقہ بن نوفل سے متعلق تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ آپ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔حضرت زید ؓ کے ساتھ ورقہ بن نوفل بھی تھے جنھوں نے پہلے مذہبِ یہود اختیار کیا پھر نصرانی بن گئےلیکن زید کو یہود و نصاریٰ کا دین پسندنہ آیا۔حضرت زید ؓ کہا کرتے تھے کہ اگرقریش کو مشرک قرار دیا جاتا ہے تو شرک کا ارتکاب کرنے میں یہود و نصاریٰ بھی کم نہیں۔زید ؓموصل پہنچے تو ایک راہب نےان سے کہ” اے زید تم تو دین ابراہیم کی تلاش میں ہے</p>
<p style="text-align: right;">جو اب دنیا میں نہیں پایا جاتا“پوچھا ” ان کا دین کیا تھا؟ “اس نے بتایا”ابراہیم یکسو تھے ،اللہ واحد کی عبادت کرتے ، کسی کو اس کا شریک ٹھہراتے نہ بتوں کے نام کا ذبیحہ چکھتے تھے“۔ زیدؓ نے کہا” میرا دین بھی یہی ہے“ چنانچہ وہ دین حنیف پرپختہ ہو گئے ، بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور صرف اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا کھاتے۔ سیّدناعمرؓ کے والدخطاب بن نفیل زید کے چچا تھے۔انہوں نے ان کی شدید مخالفت کی ، ایذائیں پہنچائیں اورقبیلے کے لوگوں کے ساتھ مل کر مکہ سے نکال باہر کیا، وہ جبل حراپر پناہ لینے پرمجبور ہو گئے۔ زیدؓ نے کئی بچیوں کیجان بھی بچائی جنھیں ان کے والدین زندہ گاڑنےلگتے تھے۔عربوں میں یہ قبیح رسم تھی کہ وہ بیٹی کے پیدا ہونے کو باعث ذلت تصور کرتے اور اسے اپنے پر بوجھ سمجھتے تھے۔ جب بچی ذرا بڑی ہو تی توزیدؓ اسے لے جاتے ، اس کا تمام خرچہ اٹھاتے اور اس کے والد سے کہتے ” تم کہو گےتو اسے لوٹا دوں گا یا اس کی کفالت کرتا رہوں گا“زید ؓآخری دم تک اولاد اسماعیل میںآنے والے نبی آخر الزمان ﷺ کی انتظار میں رہے۔ واقدی کا کہنا ہے کہ</p>
<p style="text-align: right;">زید طبعی موت مرے اور جبل حرا کے دامن میں دفن ہوئے جب کہ ہشام بن عروہؓ کی روایت کے مطابق آنحضور ﷺ کی بعثت کے وقت وہ شام میں تھے اور آپﷺ کی آمد کی خبر سن کر مکہ آ رہے تھے کہ میفعہ (بلقان) کے لوگوں نے انھیں قتل کر دیا۔زید نے عامربن ربیعہ سے کہاتھا” میری وفات کے بعدتم آخری رسولﷺ کا زمانہ پاؤ تو انھیں میرا سلام کہنا“ جب نبی امیﷺ مبعوث ہوئے اور عامرنے اسلام قبول کیا تو آپﷺ کو ان کی یہ وصیت سنائی۔ آپﷺ نے زیدؓ کے سلام کا جواب دیا،ان کے لیے دعائے مغفرت کی اور فرمایا” میں ان کو جنت میں خوشی سے چلتے پھرتے دیکھ رہا ہوں“حضرت سعیدبن زیدؓ اورحضرت عمربن خطابؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلمسے زید کے لیے دعائے مغفرت کرنے کے بارے میں استفسارکیاتوآپﷺ نے اجازت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ”زیدؓ روزِ قیامت ایک امتی کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے۔ سعید کی والدہ نے بعثت نبوی کا زمانہ پایا اور اسلام کی طرف سبقت کرنے کی سعادت حاصل کی۔سعیدؓ کے والد نے دعا کی تھی”اے اللہ ! اگر تو نے مجھے یہ نعمت (اسلام)پانے کی مہلت نہ دی تو میرے بیٹے سعیدؓکواس سے محروم نہ رکھنا“ ان کی تربیت اور دعا ہی کا نتیجہ تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے اعلان نبوت کیا تو سعیدؓ فوراً مسلمان ہو گئ</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/13646/">کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کونسا خوش قسمت انسان ہے جو کلمہ طیبہ پڑھے بغیر جنت میں داخل ہو گیا؟</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/13646/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نبی کریم ؐنے فریایا :دل دو چیزوں سے زنگ پکڑتا ہے</title>
		<link>https://ilmispot.com/12670/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/12670/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 09:15:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12670</guid>

					<description><![CDATA[<p>رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’دل دو چیزوں ( غفلت اور گناہ) سے زنگ پکڑتا ہے اور دو چیزوں (استغفار اور ذکر الٰہی ) سے ہی زنگ دور کیا جا سکتا اور اسی کے ذریعے سے دل کو روشن کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا ذکر [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12670/">نبی کریم ؐنے فریایا :دل دو چیزوں سے زنگ پکڑتا ہے</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’دل دو چیزوں ( غفلت اور گناہ) سے زنگ پکڑتا ہے اور دو چیزوں (استغفار اور ذکر الٰہی ) سے ہی زنگ دور کیا جا سکتا اور اسی کے ذریعے سے دل کو روشن کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا ذکر الٰہی کیلئے کوئی قوم جب اور جہاں بیٹھتی ہے تو ملائکہ ان پر گھیرا ڈال لیتے ہیں اللہ کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہےاور اللہ تعالیٰ ان کا اپنی مجلس میں تذکرہ فرماتے ہیں ۔ (صحیح مسلم) ایک روایت صحیحینمیں ہے</p>
<p style="text-align: right;">جسے حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں: میں اپنے بندے کے ظن کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہوں جب مجھے یاد کرتا ہے میں علم کے لحاظ سے اس کے پاس ہوتا ہوں اگر مجھے دل میں یاد کرے تو میں دل میں اسے یاد کرتا ہوں مجلس میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں میری طرف بالشت آئے تو میں ہاتھ برابر آتا ہوں۔ ہاتھ بھر آئے تو میں دو ہاتھ برابر قریب آتا ہوں چل کر آئے تو میں دوڑ کر آتا ہوں ۔ذکر الٰہی سے اللہ ذاکر کیلئے جنت میں درخت لگا دیتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے مروی ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’معراج کی رات حضرت ابراہیم ؑ سے میری ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے، میری طرف سے اپنی امت کو سلام دینا اور کہنا جنت کی زمین بھی نہایت اعلیٰ ہےاور اس کا پانی بھی میٹھا ہے۔ مگر وہ صاف چٹیل میدان ہے</p>
<p style="text-align: right;">اور اس کے پودے ہیں سبحان اللہ ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اللہ اکبر۔‘‘( ترمذی) ذکر الٰہی سے جو انعامات حاصل ہوتے ہیں وہ دیگر اعمال سے نہیں ہوتے۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’جو شخص روزانہ 100 مرتبہ’’ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر‘‘ پڑھے اسے 10 غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ 100 نیکیاں اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں اور صبح سے شام تک وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے اعمال سے بڑھ کر کسی کا عمل افضل نہیں ہوتا سوائے یہ کہ اس سے بڑھ کر کوئی عمل کرے۔ آج کا عمل یہ ہے کہ آپ دن میں ایک تسبیح یعنی کہ 100مرتبہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھیں۔ یا پھر اس کی کثرت سے تسبیح کریں ۔ انشاء اللہ آپ کی تمام حاجتیں پوری ہوجائیںاور مشکلات دور ہونگے</p>
<p style="text-align: right;">کیونکہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ میں ننانوے بیماریوں کا علاج ہے۔ حدیث مبارکہ میں جمعرات کی رات کو روشن رات اور جمعہ کے دن کو مبارک دن کہا گیا ہے ان دو دنوں کی فضیلت بہت ہی زیادہ ہے تو یہ دو دن آپ نے ضائع نہیں کرنے آپ نے یہ مختصر وظیفہ کرنا ہے دو دن یہ عمل کرنے کی برکت سے اللہ پاک آپ کی مانگی ہوئی دعاؤں کو رد نہیں فرمائیں گے اللہ پاک آپ کی مانگی ہوئی تمام دعاؤں کو شرف قبولیت بخشیں گے جو بھی حاجت آپ کے دل میں ہوگی پوری ہوجائے گی۔ اس تحریر میں جمعرات اور جمعہ کے دن کا ایک ایسا وظیفہ پیش کیا جارہا ہے کہ جس کے کرنے سے انشاء اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر چیز آپ سے محبت کرے گی یہ ایک سپیشل جمعہ کے حوالے سے وظیفہ ہے اس عمل کو کرنے سے اس کی برکت سے چرند پرند یہاں تک کہ فرشتے بھی آپ سے محبت کرنے لگیں گے یہ ایک آزمودہ عمل ہےاور اس عمل کی بہت زیادہ فضیلت ہے اس عمل کو آپ نے خود بھی کرنا ہے اور دوسرے مستحق لوگوں تک بھی پہنچانا ہے جمعہ کے دن کی بہت زیادہ فضیلت ہے اور اس دن کو تمام دنوں پر فضیلت حاصل ہے اس دن کے بہت زیادہ وظائف بھی ہیں اور اس دن دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں اس میں قبولیت کی گھڑیاں بھی موجود ہیں اسی دن میں دو گھڑیاں ایسی ہیں کہ</p>
<p style="text-align: right;">ان گھڑیوں میں آپ نے دعا مانگنی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ جب آپ ان گھڑیوں میں دعا مانگ لیں گے تو آپ کی دعا ضرور قبول ہو گی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمعہ ہی کے دن جمعہ ہی کا دن ہے کہ جس دن قیامت برپا ہو گی اور اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا گیا اور اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں داخل بھی کیا گیا تھا اس دن اللہ پاک سے سچے دل سے آپ جو بھی دعا مانگیں گے انشاء اللہ تعالیٰ وہ آپ کی دعا ضرور قبول ہوگی۔</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12670/">نبی کریم ؐنے فریایا :دل دو چیزوں سے زنگ پکڑتا ہے</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/12670/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حضرت آدم علیہ السلام نے زمین پر آکر اللہ سے پہلی فرمائش کونسی کی ؟ایمان افروز معلومات</title>
		<link>https://ilmispot.com/12667/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/12667/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 09:12:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12667</guid>

					<description><![CDATA[<p>حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے زمین پر تشریف لے آئے تو بارگاہ خداوندی میں عرض کیا۔ کہ خدایا میں یہاں نہ تو ملائکہ کی تسبیح و عبادت کی آواز سن سکتا ہوں نہ ہی کوئی عبادت خانہ نظر آتا ہے جیسا کہ آسمان میں بیت المعمور دیکھتا تھا۔ جس کے ارد گرد ملائکہ طواف [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12667/">حضرت آدم علیہ السلام نے زمین پر آکر اللہ سے پہلی فرمائش کونسی کی ؟ایمان افروز معلومات</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے زمین پر تشریف لے آئے تو بارگاہ خداوندی میں عرض کیا۔ کہ خدایا میں یہاں نہ تو ملائکہ کی تسبیح و عبادت کی آواز سن سکتا ہوں نہ ہی کوئی عبادت خانہ نظر آتا ہے جیسا کہ آسمان میں بیت المعمور دیکھتا تھا۔ جس کے ارد گرد ملائکہ طواف کرتے تھے۔ اس پر اللہ پاک کا حکم آیا کہ جاؤ جہاں پر ہم نشان بتائیں وہاں پر کعبہ بیت اللہ بنا دو۔اور اس کے ارد گرد طواف بھی کر لو اس کی طرف نماز بھی ادا کر لو۔ حضرت جبرائیل علیہ ا لسلام ان کی رہبری کے لئے ان کے ساتھ چل پڑے۔</p>
<p style="text-align: right;">اور انہیں اس مقام پر لے آئے جہاں سے زمین بنی تھی یعنی جس جگہ جھاگ بنی تھی اور پھر وہی جھاگ پھیل کر پوری زمین بنی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا پر مار کر ساتویں زمین تک بنیاد رکھ دی۔ جس کو ملائکہ نے پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے بھرا، کوہ طور، کوہ لبنان، کوہ جودی، کوہ طور زیتا، اور کوہ حرا۔ بنیاد بھرنے کے بعد نشان کے لئے چاروں طرف کی دیواریں بھی اٹھا دیں۔ اس طرف حضرت آدم علیہ السلام نماز بھی پڑھتے رہے اور طواف بھی کرتے رہے۔ طوفان نوح تک کعبہ اسی حالت میں رہا۔ طوفان کے وقت وہ عمارت آسمان پر اٹھا لی گئی اور وہ جگہ ایک اور اونچے ٹیلے کی صورت میں رہ گئی۔ مگر لوگ پھر بھی برکت کے لئے یہاں آتے تھے۔اور آ کر دعائیں مانگتے تھے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے تک کعبہ اسی حالت میں رہا۔ جب حضرت اسماعیل اور حضرت حاجرہ یہاں آ کر رہے اور یہاں کچھ آبادی ہو گئی تو حضرت حاجرہ کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ حضرت اسماعیل کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ کی عمارت تعمیر کریں۔</p>
<p style="text-align: right;">اس کی نشانی اس طرح کی گئی کہ ایک بادل کا ٹکڑا بھیجا گیا تاکہ اس کے سایہ سے کعبہ کی حد مقرر کی جائے۔ حضرت جبرائیل نے اس سایہ کی مدد سے خط کھینچا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس خط پر اس قدر کھدائی کی کہ بنیاد آدم نمودار ہو گئی۔ پھر اس پر عمارت بنائی۔اس کی بلندی۹ ہاتھ تھی ار رکن اسود سے رکنشامی تک دیوار کی لمبائی ۳۳ ہاتھ اور رکن شامی سے رکن غربی تک ۲۲ ہاتھ۔ اور رکن غربی سے رکن یمانی تک ۳۱ہاتھ اور رکن یمانی سے رکن اسود تک ۲۰ ہاتھ تھی۔ اس طرح خانہ کعبہ کی عمارت مستطیل کی شکل میں بنی۔حضرت ابراہیم نے خانہ کعبہ کے اندر ایک تغار سا بنایا ۔ تاکہ کعبہ کے لئے جو نذرانے اور تحفے آئیں وہ اس میں رکھے جا سکیں۔ اس کے دروازے دو تھے ایک داخل ہونے کے لئے اور ایک نکلنے کے لئے۔ کعبہ بنانے والے حضرت ابراہیم تھے اور ان کو گار اور پتھر اٹھا کے دینے والے حضرت اسماعیل تھے۔ اس دفعہ اس کی تعمیر کے لئے ۳ پہاڑوں کے پتھر لائے گئے۔ بعد میں اس عمارت میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی۔ اس کی اونچائی مزید بڑھائی گئی۔ دروازہ بھی دو کے بجائے ایک کیا گیا۔</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12667/">حضرت آدم علیہ السلام نے زمین پر آکر اللہ سے پہلی فرمائش کونسی کی ؟ایمان افروز معلومات</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/12667/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وہ درخت جو حضور ﷺ کے پاس خود چل کر آیا اور درود و سلام پیش کیا</title>
		<link>https://ilmispot.com/12664/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/12664/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 09:10:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[درخت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12664</guid>

					<description><![CDATA[<p>;حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ہم لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ایک اعرابی آپ کے پاس آیا، آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی، اس اعرابی نے سوال کیا کہ کیا آپ کی نبوت پر کوئی گواہ بھی [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12664/">وہ درخت جو حضور ﷺ کے پاس خود چل کر آیا اور درود و سلام پیش کیا</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">;حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ہم لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ایک اعرابی آپ کے پاس آیا، آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی، اس اعرابی نے سوال کیا کہ کیا آپ کی نبوت پر کوئی گواہ بھی ہے؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں یہ درخت جو مد ان کے کنارے پر ہے مری نبوت کی گواہی دے گا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس درخت کو بلایا اور وہ فوراً ہی زمن چر تا ہوااپنی جگہ سے چل کر بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا،</p>
<p style="text-align: right;">اور اس نے با آواز بلند تین مرتبہ آپ کی نبوت کی گواہی دی۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم نے اس کو اشارہ فرمایا تو وہ درخت زمین میں چلتا ہوا اپنی جگہ پر چلا گیا۔ امام بغوی نے اس حدیث میں یہ روایت بھی تحریر فرمائی ہے کہ اس درخت نے بارگاہِ اقدس میں آ کر اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ الله کہا، اعرابی یہ معجزہ دیکھتے ہی مسلمان ہوگیااور جوشِ عقیدت میں عرض کیا کہ یارسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علہا وسلم) مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو سجدہ کروں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر خدا کے سوا کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کاحکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔ یہ فرما کر آپ نے اس کو سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پھر اس نے عرض کا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علہ وسلم) اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کے دست مبارک کو بوسہ دوں۔</p>
<p style="text-align: right;">آپ ﷺ نے اس کو اس کی اجازت دے دی۔چنانچہ اس نے آپ کے مقدس ہاتھ کو والہانہ عقیدت کے ساتھ چوم لیا۔ اسی طرح حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ سفر میں ایک منزل پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم استنجاء فرمانے کے لئے میدان میں تشریف لے گئے مگر کہی کوئی آڑ کی جگہ نظر نہیں آئی ہاں البتہ اس میدان میں دو درخت نظر آئے جو ایک دوسرے سے کافی دوری پر تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک درخت کی شاخ پکڑ کر چلنے کا حکم دیا تو وہ درخت اس طرح آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا جس طرح مہار والا اونٹ مہار پکڑنے والے کے ساتھ چلنے لگتا ہے پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علہ وسلم نے دوسرے درخت کی ٹہنی تھام کر اس کو بھی چلنے کا اشارہ فرمایا تو وہ بھی چل پڑا اور دونوں درخت ایک دوسرے سے مل گئے اور آپ نے اس کی آڑ میں اپنی حاجت رفع فرمائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ دونوں درخت زمین چراتے ہوئے چل پڑے اور اپنی اپنی جگہ پر پہنچ کر جا کھڑے ہوئے۔امام ترمذیؒ، لکھتے ہیں کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا” مکہ مکرمہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے بعثت کی راتوں میں سلام کیا کرتا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔ ناظرین کرام ۔۔۔۔ رسول خدا ﷺ اللہ کے محبوب ترین نبی تھے ،آپ ﷺ کی شان نبوت یہ تھی کہ آپ سرکارﷺ جہاں سے گزر تے انسان و غیر انسانی قوتیں بھی آپﷺ پر سلام ا ور درود بھیجا کرتی تھیں ۔یہ اللہ کریم کی اپنے محبوب نبی سے محبت کا اظہار ہے کہ اللہ خود اپنے نبی پر درود و سلام بھیجتا ہے اور اپنی مخلوقات کو بھی اسکی ہدایت فرمائی لیکن انسان ایسا ناقدرااور کج فہم ہے کہ وہ اللہ کی اس ہدایت پر عمل کی بجائے درود و سلام پر بحث شروع کردیتاہے ۔ درود وسلام کی حکمت اور فضیلت میں ہر کسی کی بھلائی پوشیدہ ہے ،یہ ہر انسان کی زندگی کا بہترین عمل ہے جو اسے عشق نبی ﷺ سے مالا مال کرسکتا ہے۔احادیث مبارکہ میں اللہ کے نبیﷺ کے یہ معجزات بھی موجود ہیںکہ جب درختوں اور پتھروں نے بھی آپﷺ کو سلام کیا اور درود پڑھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں” ہم مکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ کے گرد و نواح میں گئے تو راستے میں جو پتھر</p>
<p style="text-align: right;">اور درخت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے آتا تو وہ کہتا” اَلسَّلَام عَلَیک یا رَسولَ اللہِ“ یا رسول اللہ! آپ پر سلام ہو۔“ پتھروں اور پہاڑوں کی جانب سے رسالت مآب ﷺ کی خدمت میں سلام کو امام بیہقیؒ نے بھی روایت کیا ہے کہ ”حضرت عباد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں” میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا”میں نے دیکھا کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ فلاں فلاں وادی میں داخل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جس بھی پتھر یا درخت کے پاس سے گزرتے تو وہ کہتا” اَلسَّلَام عَلَیکَ یا رَسولَ اللہِ“یا رسول اللہ! آپ پر سلام ہو‘ اور میں یہ تمام سن رہا تھا۔“ اردن کے شمالی صحرا میں ایک درخت ایسا بھی ہےجو گذشتہ 1400سال سے آج بھی ہرا بھرا ہے اور اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ اس درخت کے نیچے نبی کریم ﷺنے آرام فرمایا تھا۔اس درخت کے اردگرد سینکڑوں کلومیٹر تک کوئی درخت یا پودا نہیں ہے اور یہ درخت تنہا لک و دک صحر امیں کھڑا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ نے اس درخت کو آج بھی قائم رکھا ہے۔ اس درخت کو جو اعزاز حاصل ہے وہ کسی اور درخت کو نہیں جس کی وجہ سے اسے ’صحابی درخت‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ اللہ کی قدرت ہے کہ یہ درخت صدیاں گزر جانے کے بعد بھی صحیح سلامت ہے۔روایت ہے کہ</p>
<p style="text-align: right;">اس درخت کے نیچے کوئی نہیں جاسکتا تھا اور جو بھی اس کے نیچے جانے کی کوشش کرتاوہ خوفزدہ ہوکر بھاگ جاتا۔ عیسائی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس درخت کے نیچے صرف نبی آخری الزماں ﷺٹھہریں گے۔اس درخت کے قریب ہی ایک گرجا گھر تھا ، جہاں ایک خانقاہ میں بحیرانامی انجیل کا بہت بڑا عالم مقیم تھا۔یہ اس علاقے میں بڑی قدر و منزلت سے دیکھا جاتا تھا۔بحیرا ایک گوشہ نشین شخص تھا ،اپنی خانقاہ سے باہر نہیں نکلتا تھا اور شہر کے لوگوں سے اس کے روابط بالکل نہیں تھے۔اس کی تحقیق تھی کہ ادھر سے نبی آخر الزمانﷺ کا گزر ہوگا، چنانچہ وہ یہاں آنے جانے والے ہر قافلے کو کھڑکی سے بغور دیکھا کرتا تھا۔ مگر اسے وہ ہستی نظر نہ آتی جس کی اسے تلاش تھی لیکن ایک دن ایسا ہوا کہ ایک عرب سے آیا ہوا قافلہ وہاں رکا۔بحیرا نے اپنی خانقاہ کی کھڑکی سے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا ۔ اس نے دیکھا کہ سامنے درخت کے نیچے ایک بارہ سالہ لڑکا بیٹھا ہے ۔ درخت کی شاخیں اسے دھوپ سے بچانے کے لئے اس پر جھکی جارہی ہیں اورجب وہ لڑکا اٹھ کر دھوپ میں گیا تو بادل کا ایک ٹکڑا اس پر سایہ فگن ہوگیا۔ سالہا سال کی تحقیق اور اس کے علم مطابق اسے اسی دن اور اسی ہستی کا انتظار تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">وہ بڑی تیزی سے اپنی خانقاہ سے باہر نکلا اور قافلے میں گھس گیا۔ قافلے کے تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ بحیرا،ان لوگوں سے مخاطب ہوا ۔ آپ لوگ خانقاہ تشریف لے چلیں ۔میری طرف سے آپ تمام لوگوں کی دعوت ہے اور کھانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ قافلے کے تمام لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ،گویا نگاہیں ایک دوسرے سے پوچھ رہی تھیں کہ ۔ ’’ہم لوگ کئی باریہاں آئے ، ٹھہرے اور چلے گئے، لیکن بحیرا نے کبھی نہیں پوچھا ۔آج وہ کیوں اتنا مہربان ہورہا ہے۔ بہرحال کیا کرتے ، تمام لوگوں نے اس کی دعوت قبول کی اوربحیرا کی رہنمائی میں اس کی خانقاہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ بحیرا نے سب کا پر تپاک خیر مقدم کیا ۔ بولا ’’ بھائیو! میں چاہتا ہوںکہ آج تم سب میرے ساتھ کھانا کھاؤ اور تم میں سے کوئی بھی رہ نہ جائے‘‘ ۔ اہل قافلہ بولے، ہم سب توآگئے ہیں ۔ ہاں ایک چھوٹا لڑکا بھی ہمارے ساتھ تھاجسے ہم وہیں درخت کے نیچے چھوڑ آئے ہیں۔بحیرا نے کہا ،نہیں نہیں لڑکا ہے تو کیا ہوا، اس کو بھی بلاؤ ، وہ بھی یہیں ہمارے ساتھ کھانا کھائے گا۔ اس سے سب کی حیرانی اور بڑھ گئی،</p>
<p style="text-align: right;">کہ ایک تو یہ خلاف معمول دعوت اور اس پر یہ بھی اصرار کہ کوئی رہ نہ جائے۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا ’’بحیرا کیا بات ہے کہ آج آپ نے ہماری دعوت کی ہے ۔ اس سے پہلے تو کبھی نہیں کرتے تھے۔ بحیرا نے کہا ’’آپ لوگ مہمان ہیں، ہمارے پڑوس میں آکر ٹھہرے ہیں ۔ ہم پر آپ کا حق ہے ۔ ہمیں اس کا خیال کرنا ہی چاہیے ۔میں نے چاہا کہ آپ لوگوں کی کچھ خاطر تواضع ہوجائے اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ لوگوں نے کہا بخدا ضرور کوئی بات ہے۔ چنانچہ بحیرا نے ایک شخص کو حضرت ابو طالب کے ڈیرے پربھیجا۔ جو وہاں جاکر محمد ﷺ کو ساتھ لے کر آیا۔ بحیرا اور تمام مہمان بیٹھے آپﷺ کا انتظار کر رہے تھے۔ بحیرا کی نظریں محمد ﷺ پر پڑیں تو جم کر رہ گئیں اور وہ ٹکٹکی لگائے آپ ﷺ کو دیکھتا ہی رہا۔ سب نے کھانا کھایا اور ادھر اُدھر پھیل گئے۔کوئی چہل قدمی کررہا تھا ، تو کوئی گھوم گھوم کر بحیرا کا گرجا گھر دیکھ رہا تھا۔ اس وقت بحیرا آپ ﷺ کے پاس آیا اور بولا بیٹا، تمہیں لات و عزیٰ کی قسم جو کچھ پوچھوں بتلا دینا۔</p>
<p style="text-align: right;">آپ ﷺ نے فرمایا ’’لات و عزیٰ کی قسم نہ دیجئے۔ بحیرا نے کہا ’’اچھا خدا کی قسم ! جو کچھ پوچھوں سب بتلادینا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ پوچھئے کیا پوچھتے ہیں۔ اب بحیراا ٓپﷺ سے آپ ہی کے بارے میں مختلف سوال کرنے لگا۔ کچھ مزاج اور طبیعت کا حال پوچھا۔ کچھ عادات و اخلاق کے بارے میں دریافت کیا ۔ اور آپ ﷺ اس کے ہر سوال کا جواب دیتے رہے ۔ اتنے میں آپ کے چچا ابو طالب آپ ﷺکو لینے آگئے ۔ بحیرا نے پوچھا، یہ لڑکا تمہارا کون ہوتا ہے۔ ابوطالب نے کہا ، یہ میرا بیٹا ہے ۔ بحیرا بولا یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ میرے علم کے مطابق یہ تمہارا بیٹا نہیں ہوسکتا ۔ اس لڑکے کا باپ زندہ ہو ، یہ ہوہی نہیں سکتا۔ حضرت ابو طالب نے آپ ﷺ کے بارے میں بحیرا کی معلومات دیکھیں تو دنگ رہ گئے ،بولے ہاں یہ میرا بھتیجا ہے۔ بحیرا نے کہا اور اس کا باپ۔ ابوطالب بولے ’’ابھی یہ ماں کے پیٹ ہی میں تھاکہ باپ کا انتقال ہوگیا‘‘۔ بحیرا بولا، تم نے سچ کہا ۔تمہارا یہ بھتیجا ایک عظیم انسان ہوگا۔اور آ پ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر باآواز بلند کہنے لگا۔ یہ سرکار دوعالم ہیں۔ یہ رب العالمین کے رسول ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">اﷲ نے انہیں رحمت للعالمین بناکر مبعوث فرمایا ہے ۔ اہل قافلہ بحیراکی یہ باتیں سن کر حیرت وتعجب میں ڈوب گئے۔ قافلے میں سے ایک قریشی رئیس نے پوچھا ۔ اے محترم بزرگ آپ کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔ بحیرا نے جواب دیا ’’جب آپ لوگ آرہے تھے تو میں دیکھ رہا تھا کہ تمام درخت اور پتھر ان کے سامنے سجدہ کررہے تھے اور ایک بدلی ان کے سر پر سایہ کئے ہوئی تھی اور جب قافلہ اس درخت کے نیچے براجمان ہوا تو محمد ﷺ اس جگہ تھے جہاں اس درخت کا سایہ ختم ہوجاتا ہے تو اس درخت نے فوراََ جھک کر آپﷺ کے سر اقدس پر سایہ کردیا۔ یہ خصوصیت صرف انبیائے اکرام کو حاصل ہوتی ہے۔اس کے علاوہ میں انہیں مہر نبوت سے بھی پہچان سکتا ہوں جو انکے دونوں کندھوں کے درمیان ہوگی۔ ضیافت سے فارغ ہوکر، بحیرا نے ابوطالب سے درخوست کی کہ تم اپنے بھتیجے کو واپس لے جاؤ۔خدا کی قسم ! جس حد تک میں نے انھیں پہچان لیا ہے اگر رومی(یہودی) انھیں دیکھیں گے تو علاماتِ نبوت اور معجزات کی مدد سے انھیں پہچان کران کی جان کے پیچھے پڑ جائیں گے۔یوں ابو طالب حضور ﷺ کو لے کر قافلہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ واپس آگئے۔ جدید سائنس کے تجربات اور تحقیقات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ شجر اور حجر بھی شعور رکھتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">موجودہ جغرافیائی حدود کے مطابق یہ درخت اردن میں موجود ہے ۔ حکومت اردن نے اس کے قریب حجاز سے شام کو جانے والی اس تجارتی شاہراہ کے آثار بھی تلاش کرلیئے ہیں اور اس درخت کی ڈاکو منٹری بھی بنائی جو ناظرین انٹر نیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس کی اہم نشانی یہ ہے کہ سینکڑوں میل تک لق و دق تپتے صحرا میں اُگا ہوا یہ تنہا درخت موجود ہے۔ اﷲ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس درخت کی زیارت کا موقع عطافرمائے</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12664/">وہ درخت جو حضور ﷺ کے پاس خود چل کر آیا اور درود و سلام پیش کیا</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/12664/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ 1469 بار پڑھنے کا ایسا فائدہ کہ آپ خود بھی حیران رہ جائیں</title>
		<link>https://ilmispot.com/12661/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/12661/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 09:06:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[فائدہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12661</guid>

					<description><![CDATA[<p>)سورہ یٰسین سے آپ اپنے تمام مقاصد میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت سیدنا معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ سرکاروالا حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سورہ یٰسین قرآن کا دل ہے اور جو اسے اللہ کی رضا اور آخرت کی بہتری کے لئے پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12661/">سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ 1469 بار پڑھنے کا ایسا فائدہ کہ آپ خود بھی حیران رہ جائیں</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">)سورہ یٰسین سے آپ اپنے تمام مقاصد میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت سیدنا معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ سرکاروالا حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سورہ یٰسین قرآن کا دل ہے اور جو اسے اللہ کی رضا اور آخرت کی بہتری کے لئے پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کردے گا یہ مسند امام احمد کی روایت ہے کتنی ہی مختصر سی روایت ہے کہ قرآن کادل سورہ یاسین ہے اور جو اس کو اللہ کی رضا اور آخرت کے لئے پڑھے تو اللہ اس کی بخشش فرمادے گا</p>
<p style="text-align: right;">اسی طرح حضرت سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہرسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک ہر چیز کا ایک دل ہے قرآن کادل سورہ یاسین ہے اور جو ایک مرتبہ پڑھے اس کے لئے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب لکھاجائے گا۔کتنی چھوٹی سی یہ ترمذی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سورہ یاسین پڑھنی ہے اور دس قرآن پاک پڑھنے کا بندے کو ثواب مل جاتا ہے کتنی ہی سورہ کی برکتیں ہیں اسی طرح حضرت سیدنا حسان بن عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ توراۃ میں سورہ یاسین کا نام مُعِمَّہ ہے کیونکہ یہ اپنی تلاوت کرنے والے کو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطاکرتی ہے اور دنیا و آخرت کی بلائیں دور کرتی ہے اور دنیا و آخرت کی ہولناکیوں سے نجات بخشتی ہے اور اس کا نام مدافعت القاضیہ بھی ہےکیونکہ یہ اپنی تلاوت کرنے والے سے ہر برائی کو دور کر دیتی ہے اور اس کی ہر حاجت کو پورا کردیتی ہے</p>
<p style="text-align: right;">اور جو شخص اس کی تلاوت کرے یہ اس کے لئے بیس حج کا ثواب بن جاتی ہے ۔سورہ یاسین پڑھنے سے بندے کی ہر پریشانی دور ہوتی ہےہر مصیبت دور ہوجاتی ہے اس کی ہمیں تلاوت کرنی چاہئے۔حضرت سیدنا معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بے شک قرآن کا دل سورہ یاسین ہے اور جو اسے اللہ کی رضا کے لئے اور آخرت کی بہتری کے لئے پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا مغفرت کا پروانہ سورہ یاسین ہے اسی طرح حضرت سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہمیشہ رات کو سورہ یاسین کی تلاوت کرے یہاں تک کرتا رہا اور پھر مرگیا وہ شہید مرے گا شہید کا رتبہ یہ ہے کہ وہ سیدھا جنت میں جائے گا اس کا حساب نہیں ہوگا۔اگر آپ صبح یا شام کے وقت سورۃ یاسین شریف کی اس چھوٹی آیت کا وظیفہ پڑھتے ہیں تو اس سے آپ کو کیا فائدہحاصل ہوتا ہے سلام قولا من رب رحيم کی فضیلت کے بارے میں دوستوں قرآن پاک میں ہر مشکل و بیماری کا حل موجود ہے بس عقیدہ مضبوط ہونا چاہیے قرآن پاک میں اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ</p>
<p style="text-align: right;">اور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیںجو شفاء اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے سورہ یاسین پاک کی آیت سلام قول من رب الرحیم میں بہت سے پوشیدہ اسرار ہیں اور بے شمار فضائل اور ہر قسم کے امراض سے شفا کا حل موجود ہےہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن پاک کا دل یاسین پاک ہے اور یاسین پاک کا دل یہ آیت ہےملازمت کے لئے اگر کسی حاسد نے جادو کے ذریعے کسی کی ملازمت یاکاروبار میں رکاوٹ ڈال دی ہواس کے واسطے ہر نماز بعد سلام قول من رب الرحیم کو 313 مرتبہ پڑھیں انشاء اللہ ہر قسم کی رکاوٹ دور ہوجائے گی دوستو ایک شخص نے مجھے بتایا کہ میں جب بھی موٹر سائیکل پر گھر سےنکلتا ہو تو سلام قولا من رب رحيم کا ورد شروع کردیتا ہوں اس کی برکت سے ہر قسم کے حادثات و پریشانیوں سے بچا رہتا ہوں دو مرتبہ تو یقینی حادثوں سے اللہ پاک نے مجھے اس آیت کی وجہ سے بچا لیاایک لڑکا اپنا تجربہ بتانے لگا کہ میں سلام قولا من رب رحيم صبح فجر کے بعد تسبیح کرتا ہوںجس کی وجہ سے میرا دل نیکی کی طرف مائل ہونا شروع ہوگیا ہے</p>
<p style="text-align: right;">نماز میں خشو ع و خضوع مل گیا ہے ذکر و درود پاک پڑھنے کو خوب دل کرتا ہے اللہ پاک نے جھوٹ غیبت چغلی سے بچایا ہوا ہے۔سلام قولا من رب رحيم کی فضیلت اور اہمیت بہت ہی زیادہ ہےاگر کوئی بھی شخص روزانہ سلام قولا من رب رحيم کو پڑھنے کا معمول بنا لیتا ہے تو اس کے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں یہ خود آپ جان کر حیران رہ جائیں گے یہ آیت اچھی شادی کے لئے بہت مجرب ہے اچھا رشتہ ملنا خوش بختی کی دلیل ہے کیونکہ بے شمار لوگ شادی کے مسئلے میں پریشان ہوتے ہیںاس پریشانی کا حل یہ ہے کہ سلام قولا من رب رحيم کوچالیس دن تک روزانہ 12 ہزار نو سو مرتبہ پڑھے انشاءاللہ اچھا رشتہ مل جائے گا اور شادی میں سکون ملے گا جو شخص اس آیت کو روزانہ 129 مرتبہ پڑھنے کا معمول بنالے تو انشاءاللہ اس کا ہر ایک جائز کام اس اسم کی برکت سے ہو جائے گا۔اولیاء کرام اور بزرگان دین نے اس آیت کی بہترین تعریف کی ہےاس آیت کے ذکر کے برکت سے رزق میں اضافہ ہوتا ہے فکرو فاقہ دور ہوتا ہے اگرکسی کا روزگار نہ ہو تو اسے روزگار مل جاتا ہے</p>
<p style="text-align: right;">ملازمت نہ ملتی ہو تو ملازمت مل جاتی ہے آمدنی کم ہو تو اس میں اضافہ ہوتا ہے ان مقاصد کے لئے 16641 مرتبہ روزانہ اس آیت کو پڑھیں اور چالیس دن تک اس عمل کو کریں تو انشاءاللہ جو مقاصد ہم نے بیان کیے ہیں بہت جلد حل ہو جائیں گےایسی لاعلاج بیماری جو انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی ہوں اس میں اس آیت کو گیارہ روز تک روزانہ گیارہ ہزار مرتبہ پڑھیں اور پانی دم کرکے مریض کو روزانہ پلائیں انشاءاللہ مریض کے شفایاب ہونے کا کوئی ذریعہ بن جائے گاایک قول کے مطابق اگر کوئی بیمار اسے تین سو مرتبہ روزانہ 21 دن تک پڑھے تو انشاءاللہ تندرست ہوجائے گایہ وہ آیت مبارکہ ہے اگر اس کے ساتھ آپ کے گناہ بہت ہی زیادہ کیوں نہ ہوں انشاءاللہ اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی آپ کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے چاہے آپ کے گناہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12661/">سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ 1469 بار پڑھنے کا ایسا فائدہ کہ آپ خود بھی حیران رہ جائیں</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/12661/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وہ پھل جس کو نبی کریم ؐ نے 70بیماریوں کا علاج قرار دیا</title>
		<link>https://ilmispot.com/12658/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/12658/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 09:03:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[70بیماریوں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12658</guid>

					<description><![CDATA[<p>سبحان اللہ۔۔۔ اللہ پاک نے ہمارے لئے یہاں دیگر بے شمار نعمتیں ہمیں عطا کی ہیں وہاں پر ہمارے لئے بڑے بڑے پھل بھی پیدا کئے ہیں جن کی لذت اور ذائقہ بھی مختلف ہے اور ان کے فوائد بھی مختلف ہیں اور ان میں سے بعض پھلوں کے تو ایسے فوائد ہیں۔کہ اگر ہم [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12658/">وہ پھل جس کو نبی کریم ؐ نے 70بیماریوں کا علاج قرار دیا</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">سبحان اللہ۔۔۔ اللہ پاک نے ہمارے لئے یہاں دیگر بے شمار نعمتیں ہمیں عطا کی ہیں وہاں پر ہمارے لئے بڑے بڑے پھل بھی پیدا کئے ہیں جن کی لذت اور ذائقہ بھی مختلف ہے اور ان کے فوائد بھی مختلف ہیں اور ان میں سے بعض پھلوں کے تو ایسے فوائد ہیں۔کہ اگر ہم کو ان فوائد کے بارے میں علم ہو جائے تو ہم ن پھلوں کو گھر سے ختم ہی نہ ہونے دیں۔ زیتون نہ صرف ذائقہ کے اعتبار سے منفرد حیثیت کا حامل ہے بلکہ اپنے اندر متعدد طبی فوائد بھی رکھتا ہے-</p>
<p style="text-align: right;">حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہرسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کے تیل کو کھایا کرو اور اس کا تیل لگایا کروکیونکہ اس میں ستر بیماریوں کیلئے شفاء ہے-زیتون کی فضیلت کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے اور ایک سورۃ میں اللہ عزو جل نے زیتون کی قسم بھی کھائی ہے-زیتون کے بیشمار فوائد ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہے۔ زیتون بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے-خون میں اضافی کولیسٹرول کا خاتمہ کرتا ہے-زیتون میں وٹامن ’’ای‘‘ وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے اور اسکے غذائی ریشے قبض سے بچاتے اورصحت مند رکھتے ہیں-زیتون میں سوڈیم ،پوٹاشیم ،میکنیشیم،آئرن ،فاسفورس اور آیوڈین موجو د ہوتے ہیں-زیتون کے کھانے سے جلد پر جھریوں کے نمودار ہونے میں تاخیر ہوتی ہے اگر آپ کھانے سے پہلے دس زیتون کھا لیں تو آپ کی بھوک 20فیصد کم ہو جائیگی۔روایت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پھل حضرت نوح ؑ کے دور میں بھی موجود تھا-اس کا تیل اور پھل اچار کے طور پر درآمد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12658/">وہ پھل جس کو نبی کریم ؐ نے 70بیماریوں کا علاج قرار دیا</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/12658/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہردعا ،ہر ضرورت 7دن میں پوری ہوجائے گی</title>
		<link>https://ilmispot.com/12655/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/12655/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 09:00:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ہردعا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12655</guid>

					<description><![CDATA[<p>اس تحریر میں ایک ایسا عمل جس کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ کے ان اسماء کے ذریعے سے دعا مانگے گا تو انشاء اللہ جب مانگے گا اللہ اس کو ضرور بضرور عطا فرمائیں گے پیش کیا جارہا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان اسماء کے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12655/">ہردعا ،ہر ضرورت 7دن میں پوری ہوجائے گی</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">اس تحریر میں ایک ایسا عمل جس کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ کے ان اسماء کے ذریعے سے دعا مانگے گا تو انشاء اللہ جب مانگے گا اللہ اس کو ضرور بضرور عطا فرمائیں گے پیش کیا جارہا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان اسماء کے ذریعے جب بھی انسان مانگے گا تو اللہ اس کوضرور بہ ضرور عطافرمائیں گے یہ ترمذی اور ابو داؤد شریف کی حدیث ہے۔اس لئے آ ج کا وظیفہ بہت ہی خاص ہے ۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک اسم ہے</p>
<p style="text-align: right;">جس کی صرف اور صرف آپ نے ایک تسبیح کسی بھی دن کر لینی ہے آپ یہ عمل کریں گے۔ تو انشاء اللہ آپ کا پورا سال اللہ کے حکم سے امن و سلامتی کے ساتھ گزرے گا عزت و سرفرازی کے ساتھ گزرے گا جوبھی اللہ سے مانگیں گے اللہ عطا فرمائیں گے اس کا پڑھنے والا کبھی بھوکا نہیں رہے گا بہت ہی خوبصورت ساعمل ہے ۔جس کی صرف اور صرف ایک تسبیح کرنی ہے ایسا پیارا نام ہے جس کے حوالے سے ایک حدیث مبارکہ بھی موجود ہے حضورﷺ نے ایک صحابی کو اس طرح دعا مانگتے ہوئے سنا توآپﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ یہ اسم اعظم ہے اور اس کے ذریعہ سے جب بھی دعا کی جائے گی تو ا للہ ضرور عطا فرمائیں گے وہ نام اَلاَحَدُالصَّمَد ہے یااحد الصمد بھی کہہ سکتے ہیں یا احد الصمد اگر کہیں گے تو یہ زیادہ طاقتور ہوجائے گا کیونکہ کسی بھی اللہ کے نام کے ساتھ جب ہم یا والی صفت لگا دیتے ہیں</p>
<p style="text-align: right;">تو اس کی طاقت زیادہ ہوجاتی ہے ۔ ایک تسبیح اس کی کرنی ہے۔آپ نے اس سال میں کسی بھی دن 1000 مرتبہ اس اسم کو پڑھناہے ۔ درود پاک پڑھ کر جائے نماز بچھائیے اور درود شریف پڑھ کر تین مرتبہ اور سجدے کی حالت میںصبح کے وقت جببھی وقت ہو کیونکہ ذکر کے لئے کوئی اوقات مقرر نہیں کئے گئے ہیں ۔سجدے کی حالت میں ہاتھ میں تسبیح رکھ کر ایک سو ایک مرتبہ اس اسم کا ورد کرنا ہے اور سجدے کی حالت میں ہی اللہ سے اپنی اس حاجت کے لئے اس پریشانی کے لئے طلب کرنا ہے اور اللہ سے دعا کرنی ہے کہ یا پاک پروردگا ر بے شک ہر چیز آپ کی پیدا کرد ہ ہے آپ جس چیز کو چاہتے ہیں حکم فرمادیتے ہیں آپ میرے لئے اگر مشکلات ہیں تو اس سال آنے والی تمام تر مشکلات سے مجھے چھٹکارا دیجئے میرے رزق کے حوالے سے میرے مدد گار ہوجائیے۔ اور مریضوں کو تندرستی عطا فرمایئے کیونکہ</p>
<p style="text-align: right;">اس کے حوالہ سے حدیث مبارکہ یہی ہے کہ انشاء اللہ جب بھی جو بھی مانگیں گے اللہ عطا فرمائیں گےآپ نے اللہ سے پوری سال کے لئے امن اور سلامتی کا سوال کرنا ہےاس کے حوالے سے فرمایا جاتا ہے کہ جو کوئی شخص اس کو اللہ کے اس نام کو یا احد الصمد کو پڑھے گا تو اللہ اس کے دل سے مخلوق کی محبت کا خوف نکال دے گا ایک عجیب و غریب سے کیفیت انسان کی پیداہوتی ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر انسانوں کی محبت میں جب پڑجاتا ہے تو اللہ انسان کو اسی چیز میں آزمانا شروع کردیتے ہیں ۔انشاء اللہ جب آپ یہ اسم پڑھیں گے تو اللہ آپ کو مخلوق کی محبت کی جدائی کے خوف سے نکال دیں گے ۔ اللہ آپ کو اسی چیز سے محبت پیدا کروائیں گےجو آپ کو حاصل ہوگی جو آپ کو ملے گی خواہ وہ مال کی ہو خواہ وہ کسی انسان سے آپ کی محبت ہو تو انشاء اللہ جدائی نہیں آئی گیآپ کے درمیان میں اس محبت کے حوالے سے اور اس حوالے سے کہ جس شخص کی اولاد نہ ہو تو اگر وہ اس اسم کو اس طرح سے پڑھے جس طرح بتایا گیا ہے تو اللہ تعالی اسکو اولاد صالحہ عطا فرمائیں گےاس کے علاوہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو اس طرح سے دعا کرتے ہوئے سنا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاَنِّی اُشْھِدُکَ اَنَّکَ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَکُنْ لَکَ کُفُوًا اَحَد. ۔ احد الصمد کا لفظ بھی اس میں استعمال ہوا جس کو اسم اعظم قرار دیا گیا ہے تو نبی ﷺ نے جب اس شخص کو اس طرح سے دعا مانگتے ہوئے سنا تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ سے</p>
<p style="text-align: right;">اس اسم اعظم کے ذریعہ سے دعا کی ہے کہ جس کے ذریعے سے جب مانگا جاتا ہے تو اللہ عطا فرما دیتے ہیںاور احدالصمد کا معنی ایک اکیلا اپنی ذات و صفات میں یکتا ہر چیز سے بے نیاز تو انشاء اللہ جو انسان اس کو پڑھے گا اللہ اس کو ظالم کے ظلم سے بچا کر رکھیں گے عزت و سرفرازی عطافرمائیں گے بیمار کو شفا عطا فرمائیں اور عافیت والی زندگی عطا فرمائیں گے جو کوئی انسان اس کو اس نیت سے پڑھے کہ اللہ اس میں نیکی کی خصلت پیدافرمائیں گناہوں سے دوری ہوجائےتو انشاء اللہ اللہ تعالیٰ اس کو فرشتہ خصلت بنادیں گےاس کے اندر نیکی کا رجحان پیدا ہوجائے گا۔سجدے کی حالت میں اس کو پڑھنے سے اس کا سب سے بڑا فائدہ جو اکابرین نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس اسم کو پڑھنے سے انشاء اللہ تعالیٰ ظاہری و باطنی سچائی نصیب ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کسی ظالم کے ہاتھ سے اس انسان کو گرفتار نہیں کروائیں گے</p>
<p style="text-align: right;">کسی ظالم کی اتنی ہمت نہیں ہوگی کہ اس کی عزت کو اچھالے کسی ظالم کی اتنی ہمت نہیں ہو گی کہ اس کے خلاف پراپیگنڈہ کرے۔ اس عمل کو باوضو حالت میں ہی کریں باوضو حالت میں ہی سجدہ میں اور اس اسم کو پڑھیں اللہ کے حکم سے مخلوق کے حکم سے بے نیاز کردیں گے ۔اللہ ہر چیز پر قادر ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو مخلوق سے بے نیاز کردیں گے اور اس اسم کو پڑھنے والے کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس میں آثار صمدانی ظاہر ہونا شروع ہوجانا شروع ہوجاتے ہیں اور اس کو پڑھنے والا کبھی بھی بھوکا نہیں رہے گا کوئی ایسی حاجت نہیں ہوگی جو آپ کی پوری نہ ہو۔پریشانیاں دور ہوں گی عزت و سرفرازی ملے گی ۔بیماری سے شفاء ملے گی۔گناہوں کی بخشش ہوگی۔گناہوں کی دلدل سے نکل آئیں اور نیکی طرف آجائیں گے اور جو انسان اس کو مشکلات میں پڑھے تو تمام مشکلات حل ہوجائیں گی۔شکریہ</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12655/">ہردعا ،ہر ضرورت 7دن میں پوری ہوجائے گی</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/12655/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دودھ کا اُبل کر گرنا، حضرت علی کا بیان“</title>
		<link>https://ilmispot.com/12652/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/12652/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 08:53:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت علی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12652</guid>

					<description><![CDATA[<p>حضرت علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے ۔ حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12652/">دودھ کا اُبل کر گرنا، حضرت علی کا بیان“</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">حضرت علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے ۔ حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے ہی امیر المومنین حضرت علینے فرمایا اے عورت !! جب تم اللہ کا رزق پکاتے ہو تو کچھ نیچے تو نہیں گرتا ؟ یہ سوالسن کر عورت نے عرض کیا ہاں علیؑ جب جب میں دودھ اُبالتی ہوں تو وہ تھوڑا سا گر جاتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بس عورت کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رض نے فرمایا: اے عورت یاد رکھنا کہ جب تم اللہ کا دیا گیا رزق گراؤ گی اور جلاؤ گی تو اس سے گھر میں بے سکونی ، جھگڑے ، نفرت اور رزق میں تنگی کے اسباب پیدا ہوں گے۔ دودھ کو ابال کر پینا چاہئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دودھ ابل کر زمین پر نہ گرے تم اپنی اس عادت پر قابو پا لو اللہ کے کرم سے تمہارے گھر میں سکون ، محبت اور برکت آجائے گی۔ حضرت علیؑ کی بات سنتے ہی عورت گھر گئی اور آئندہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچانے لگی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپس کے گھر میں خوشخالی اور ہر طرف سکون ہوگیا۔ سبق: اپنے گھر میں اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچائیں ، شکریہ ، التماس دعا</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12652/">دودھ کا اُبل کر گرنا، حضرت علی کا بیان“</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/12652/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رات کو یہ21بار پڑھ کر سوجاؤصدیوں کی غریبی صبح رزق و دولت کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی</title>
		<link>https://ilmispot.com/12646/</link>
					<comments>https://ilmispot.com/12646/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Mar 2024 08:44:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامک معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[سوجاؤصدیوں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailymz.com/?p=12646</guid>

					<description><![CDATA[<p>علمی سپاٹ! ہمارے پیارے نبی کریمﷺ نے فرمایا جس شخص نے میرے اوپر درود شریف نہ پڑھا اس کا کوئی دین نہیں۔ (کشف النعمہ صفحہ272) قرآن کریم میں سورۃ آل عمران میں ہے ’’اے رسول ﷺ آپ لوگوں سے فرما دیجئے کہ اگر تم اﷲ تعالیٰ سے دوستی کا دم بھرتے ہو ،تومیری پیروی کرو [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12646/">رات کو یہ21بار پڑھ کر سوجاؤصدیوں کی غریبی صبح رزق و دولت کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">علمی سپاٹ! ہمارے پیارے نبی کریمﷺ نے فرمایا جس شخص نے میرے اوپر درود شریف نہ پڑھا اس کا کوئی دین نہیں۔ (کشف النعمہ صفحہ272) قرآن کریم میں سورۃ آل عمران میں ہے ’’اے رسول ﷺ آپ لوگوں سے فرما دیجئے کہ اگر تم اﷲ تعالیٰ سے دوستی کا دم بھرتے ہو ،تومیری پیروی کرو ۔ خدا تمہیں اپنا دوست بنائے گا۔‘‘ اسی طرح سے سورۃ احزاب میں ہے ’’ بیشک اﷲ اور اسکے فرشتے بنی ﷺ پر درود پڑھ رہے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">اے مومنو تم بھی انکے اوپر درود پڑھو اور پوری طرح سلام بھیجو‘‘ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نے مجھ پر درود پاک نہ پڑھا اس کا وضو نہیں ہے۔(کشف النعمہ صفحہ272) درودشریف ایک سلام ہے جو حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور اسکے بے بہا فوائدہیں جس سے دنیا و آخرت کی بھلائی اورکامرانی ممکن ہے۔درودشریف پیار ے نبی ﷺ پر سلام بھیجنے کو کہا جاتا ہے۔درودشریف ایک دعا بھی ہے جس سے اﷲ کے پیارے رسول ﷺ پر رحمت طلب کی جاتی ہے اور سلامتی بھی طلب کی جاتی ہے۔حضرت شیخ صادی ؒ نے شرح ورد الارویر میں بیان کیا ہے کہ حضرت شیخ عارف محمد حقیؒ نے ’’ خزینتہ الاسرار‘‘ میں لکھا ہے کہ درودشریف تقریباََ چارہزار قسموں کے ہیں۔ایک روایت میں بارہ ہزار بھی لکھا ہے۔ان میں سے ہر ایک دروددنیا کی کسی نہ کسی جماعت کا اپنے او رحضورﷺ کے درمیان تعلق و اُنس کے اعتبار سے پسندید ہ ترین ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">دنیا میں موجود ہر مسلمان اپنی مرضی کا من پسند درود پڑھ کر اپنے پیارے نبی ﷺ کی خوشنودی حاصل کی جستجو کرنے میں لگا ہو اہے اور اس کی بہت سی مشکلات و مسائل سے اس کی بدولت نجاب ممکن ہوتی جاتی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے اس مادی دنیا میں جس طرح سے پھولوں پھلوں کو خاص شکل وصورت دی ہوئی ہےلیکن پھولوں کا سردار گلاب ہے اور آم پھلوں کا سردار ہے اُسی مانند درود شریف کو بھی عبادات میں خاص امتیاز حاصل ہے اور یہ وردوظائف کا سردار ہے۔ُُمشکل جو سر پر آپڑی تیرے ہی نام سے ٹلی مشکل کشا ہے تیر انام تج پر لاکھوں درودوسلامہر مسلمان کے لئے جنت کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ کے قرب کا حصول بھی اس کے پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے ۔اﷲ تعالیٰ خود بھی درود پڑھ رہا ہے اور اسکے فرشتے بھی درودبھیجتے ہیں۔درودشریف اﷲ تعالیٰ کے ذکر اور بنی کریمﷺ کی تعظیم پر مبنی ایک بہترین عبادت ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ہم تو صرف اﷲ کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور بڑے سے بڑا فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔اس کو پڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم با وضو ہوں اور چلتے پھرتے پڑھتے رہیں اور اپنے تمام ترضروری کام کاج بھی کرتے رہیں،دل میں یا زبان سے با آواز بلند بھی پڑھ سکتے ہیں ۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی غوث الاغطم ؒ اپنی معرکتہ الا ٓرا تصنیف ’’ غنیط الطالبین‘‘ میں فرماتے ہیں کہ اُمت کا نبی کریم ﷺ پر درودبھیجنا شفاعت کا طلب کرنا ہے۔حضرت غوث الاعظم ؒ مزید فرماتے ہیں کہ درودشریف کا مطلب پیروی کرنا اورحرمت کرنا بھی ہے۔حضرت شاہ عبدالقادر صاحب نور اﷲ مرقدہ مرحوم فرماتے ہیں کہ (درودشریف ) اﷲ سے رحمت مانگنی اپنے پیارے نبی ﷺ پر اور ان کے گھرانے پر بڑی قبولیت رکھتی ہے۔ان پر ان کے لائق رحمت اُترتی ہے اور ایک دفعہ مانگنے سے دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔جو مانگنے والے پر اُترتی ہیں اور جب جس کا جی چاہے اتنی ہی رحمت حاصل کر لے۔حضرت علامہ زرقانی ’’شرح مواہب‘‘میں نقل کرتے ہیں کہ دوردشریف پڑھنے سے اﷲ تعالی کی بارگاہ میں قر ب حاصل ہوتا ہے۔جس کو بھی اﷲ تعالیٰ کا قرب آسانی سے ملا ہے تو درود شریف کی وجہ سے ہی ملا ہے اور جس کو والایت حاصل ہوئی ہے تو اسکی بدولت ملی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">درودشریف پڑھنے والے کو دنوں طرف سے برکات ملتی ہیں اﷲ تعالیٰ کے دربار میں مقبولیت اور حضورﷺ کے دربار میں قبولیت ۔یہ ایک نہایت آسان اور بابرکت تجارت ہےجس سے آدمی کو بلاتکلیف صرف منافع ملتا ہے۔یہی وہ واحد وظیفہ ہے جس کے پڑھنے کے اُلٹ اثرات نہیں پڑتے ہیں اور ہم کثرت سے پڑھ سکتے ہیں۔حضرت علامہ احمد بن المبارک اپنی مشہور کتاب ’’لبریز‘‘ جو غوث الزمان برالعرفان سیدنا عبدالعزیز رحمت اﷲ علیہ کے ملفوظات پر مشتمل ہے۔گیارہویں باب میں فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ سے اس قول کے بارے میں فرماتے سنا تھا کہ بنی کریم ﷺ پر درودشریف ہر ایک شخص سے قطعی طور پر قبول ہے۔ اس میں قطعی شک وشبہ نہیں کہ درودشریف تمام اعمام سے افضل ہے اور یہ ملائکہ کا بھی ذکر ہے جو کہ جنت میں رہتے ہیں ۔یہ ملائکہ جب بھی درودشریف کا ذکر کرتے ہیں ،توجنب کشادہ ہو جاتی ہے اور یہ کشادگی بنی کریم ﷺ پر درودشریف کی برکات کی بدولت ہوتی ہے۔جنت بڑھنا اس وقت بند کر دیتی ہے جب ملائکہ تسبیح پڑھنا شروع کرتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ ان پر تجلی ڈالتا ہے ،جونہی تجلی پڑتی ہے ،ملائکہ تسبیح بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔تسبیح سنتے ہیں جنت ٹھہر جاتی ہے۔ایک بات یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف اﷲ تعالیٰ کا کلام ہے مگر اﷲ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ</p>
<p style="text-align: right;">قرآن میں بھی پڑھتا ہوں اور تم بھی پڑھو۔لیکن درودشریف کے متعلق صاف صاف کہہ دیا کہ میں بھی سلام بھیجتا ہوں ، ملائکہ بھی اور مومنو تم بھی بھیجو۔اس کے معنیٰ صرف درودشریف پڑھنے سے ہی ہم’’مومن‘‘ ہو جاتے ہیں۔بہت سے لوگ اپنے آپ کو مومن تو بڑی خوشی سی کہلواتے ہیں مگر اُ ن میں سے اکثریت ایسی ہے جو کہ درود پڑھنے کی توفیق تک نہیں رکھتے ہیں۔قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: ترجمہ: یعنی بلند کیا ہم نے تمہارے لئے تمہارد ذکرعلامہ قاضی عیاض ؒ تفسیر فرماتے ہیں کہ حق تبارک تعالیٰ نے اپنے حبیب احمد مجتبیٰ ﷺ سے ارشاد فرما یا ہے کہ :۔ ’’ میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایک یاد کیا ،جس نے تمہارا ذکر کیا،اس نے میرا ذکر کیا،اس کا صاف اور صاف مطلب یہ ہے کہ جس نے حضورﷺ پر صلوۃ و سلام پڑھا تو اس نے تحقیق اﷲ تعالیٰ کا ذکر کیا۔حضر ت مولانا محمد علی خان رامپٹوری مرحوم اپنی مشہورکتاب ’’فلاح دین ودنیا‘‘ میں فرماتے ہیں کہ جو شخص صد ق دل سے ایک مرتبہ حضرت محمد ﷺ پر درود شریف بھیجتا ہے ۔تو گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے</p>
<p style="text-align: right;">جیسے ماں کے پیٹ سے ابھی ابھی پیدا ہوا ہو۔ ایک لاکھ نیکیاں لکھی جاتی ہیں اس کے نامہ اعمال میں اور اسکا نام بھی زندہ اولیاء میں تحریر ہوتا ہے۔ رہے عزت و احترم محمدﷺ کہ بعد از خدا ہے مقام محمدﷺ ثبوت اس کا قرآن کی آیتیں ہیں کلام خدا ہے کلام محمدﷺایک سائل حضر ت علی رضی اﷲ عنہ کے پاس آ یا اور عرض کی کہ مجھے کچھ دیجئے ،میں تنگدست ہوں۔حضرت علی ؓ کے پاس اس وقت دینے کے لئے کوئی چیز نہ تھی۔آپنے دس بار درود پڑھ کر سئائل کی ہتھیلی پر پھونک مار کر فرمایا ۔ہتھیلی بندکر دو۔سائل نے باہر جا کر جب ہتھیلی کھولی تو سونے کے دنیاروں سے بھری پڑی تھی۔( فضل الصلواۃ واسلام صفحہ132)جب جضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ نے دردد پاک کے فضائل بیان فرما رہے تھے تو پانچ درویش آئے اور عرض کیا ہم مسافر ہیں؟ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے جار ہے ہیں لیکن پیسہ نہیں۔یہ سن کر حضرت شیخ فرید شکر گنج رحمتہ اﷲ علیہ نے مراقبہ کیا اور سر اُٹھا کر کھجور کی چند گٹھلیاں لیں اور کچھ پڑھ کر ان سب مسافروں کو دے دیں۔درویشوں نے</p>
<p style="text-align: right;">جب باہر جاکر انکو دیکھا تو وہ سونے کی اشرافیاں تھیں۔آپ کے رفیق حضرت شیخ بدرالدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ نے بتایا کہ بابا فرید گنج شکر نے کھجور کی گھٹلیوں ں پر درود شریف پڑھ کر پھونکا تھا جس کی برکت سے وہ گٹھلیاں سونا بن گئیں۔ (آب کوثر صفحہ 133)امام شافعی ؒ کے بڑے شاگرد حضرت امام اسمعیل مزنی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ بعد مرنے کے امام شافعی ؒ کو خواب میں دیکھا اور دریافت کیا کہ رب تعالیٰ نے کیا معاملہ کیا؟ بولے مجھے فورا بخش دیا اور فرشتوں کوحکم ملا کہ امام شافعی ؒ کو بڑے عزت و احترام کے ساتھ جنت میں لے آؤ ۔یہ سب اس درود شریف کی برکت کی وجہ سے ہوا تھا جو میں پڑھا کرتا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://ilmispot.com/12646/">رات کو یہ21بار پڑھ کر سوجاؤصدیوں کی غریبی صبح رزق و دولت کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی</a> appeared first on <a href="https://ilmispot.com">Ilmi Spot</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://ilmispot.com/12646/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
